Wednesday, September 25, 2013

رُکو تو تم کو بتائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

رُکو تو تم کو بتائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں
کلی اَکیلے اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کہا طبیب نے ، گر رَنگ گورا رَکھنا ہے
تو چاندنی سے بچائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ بادلوں پہ کمر ''سیدھی'' رَکھنے کو سوئیں
کرن کا تکیہ بنائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ نیند کے لیے شبنم کی قرص بھی صاحب
کلی سے پوچھ کے کھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بدن کو دیکھ لیں بادل تو غسل ہو جائے
دَھنک سے خشک کرائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

سیاہی شب کی ہے چشمِ غزال کو سُرمہ
حیا کا غازہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ دو قدم چلیں پانی پہ ، دیکھ کر چھالے
گھٹائیں گود اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کلی جو چٹکے تو نازُک ترین ہاتھوں سے
وُہ دونوں کان چھپائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

سریلی فاختہ کُوکے جو تین مُلک پرے
شکایت اُس کی لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

پسینہ آئے تو دو تتلیاں قریب آ کر
پروں کو سُر میں ہلائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

ہَوائی بوسہ دِیا پھول نے ، بنا ڈِمپل
اُجالے ، جسم دَبائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ گھپ اَندھیرے میں خیرہ نگاہ بیٹھے ہیں
اَب اور ہم کیا بجھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ گنگنائیں تو ہونٹوں پہ نیل پڑ جائیں
سخن پہ پہرے بٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ زیورات کی تصویر ساتھ رَکھتے ہیں
یا گھر بلا کے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کبوتروں سے کراتے تھے بادشاہ جو کام
وُہ تتلیوں سے کرائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ پانچ خط لکھیں تو ''شکریہ'' کا لفظ بنے
ذِرا حساب لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

گواہی دینے وُہ جاتے تو ہیں پر اُن کی جگہ
قسم بھی لوگ اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بس اِس دلیل پہ کرتے نہیں وُہ سالگرہ
کہ شمع کیسے بجھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ سانس لیتے ہیں تو اُس سے سانس چڑھتا ہے
سو رَقص کیسے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شراب پینا کجا ، نام جام کا سن لیں
تو جھوم جھوم سے جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

نزاکت ایسی کہ جگنو سے ہاتھ جل جائے
جلے پہ خوشبو لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

گھروندے ریت سے ساحل پہ سب بناتے ہیں
وُہ بادلوں پہ بنائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جلا کے شمع وُہ جب غُسلِ آفتاب کریں
سفیدی رُخ پہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شکار کرنے کو جانا ہے ، کہتے جاتے ہیں
پکڑنے تتلی جو جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شکاریوں میں اُنہیں بھی جو دیکھیں زَخمی شیر
تو مر تو شرم سے جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

اُٹھا کے لاتے جو تتلی تو موچ آ جاتی
گھسیٹتے ہُوئے لائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کلی کو سونگھیں تو خوشبو سے پیٹ بھر جائے
مزید سونگھ نہ پائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

غلام چٹکی نہ سننے پہ مرتے مرتے کہیں
خدارا تالی بجائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

نکاح خوان کو بس ''ایک'' بار وَقتِ قُبول
جھکا کے پلکیں دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

ہر ایک کام کو ''مختارِ خاص'' رَکھتے ہیں
سو عشق خود نہ لڑائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

اُتار دیتے ہیں بالائی ، سادہ پانی کی
پھر اُس میں پانی ملائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ دَھڑکنوں کی دَھمک سے لرزنے لگتے ہیں
گلے سے کیسے لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ سیر ، صبح کی کرتے ہیں خواب میں چل کر
وَزن کو سو کے گھٹائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وَزن گھٹانے کا نسخہ بتائیں کانٹوں کو
پھر اُن کو چل کے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

حنا لگائیں تو ہاتھ اُن کے بھاری ہو جائیں
سو پاؤں پر نہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ تِل کے بوجھ سے بے ہوش ہو گئے اِک دِن
سہارا دے کے چلائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کل اَپنے سائے سے وُہ اِلتماس کرتے تھے
یہاں پہ رَش نہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

تھکن سے چُور وُہ ہو جاتے ہیں خدارا اُنہیں
خیال میں بھی نہ لائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

پری نے ہاتھ سے اَنگڑائی روک دی اُن کی
کہ آپ ٹوٹ نہ جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

غزل وُہ پڑھتے ہی یہ کہہ کے قیس رُوٹھ گئے
کہ نازُکی تو بتائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں
شہزاد قیس کی کتاب "لیلٰی" سے انتخاب

Monday, August 05, 2013

True Definition of Love!

محبت کیا ہے دل کا درد سے مامور ہو جانا ....
متاع جان کسی کو سوںپ کر مجبوو ہو جانا..... 

Monday, July 29, 2013

Dukh hi aisa tha keh roya tera Mohsin warna

Hum jo pohonchay sar-e-maqtal to ye manzar daikha
Sab say uncha tha jo sar, nok-e-sina per daikha

Hum say mat pooch keh kab chaand ubharta hai yahan
Hum nay suraj bhi teray sheher maian aa ker daikha

Pyaas yaaron ko ab us morrh pay lay aai hai
Rait chamki to yeh samjhay keh samandar daikha

Aisay liptay hain dar-o-baam say ab kay jaisay
Hadson nay bari muddat main mera ghar daikha

Zindagi bhar na hua khatm qayamat ka azaab
Hum nay her saans main barpa naya mehshar daikha

Itna bay-hiss keh pighalta hi na tha baton say
Aadmi tha keh tarasha hua patthar daikha

Dukh hi aisa tha keh roya tera Mohsin warna
Gham chhupa ker usay hanstay huay aksar daikha
 

- Mohsin Naqvi

Sunday, July 28, 2013

​ راستہ ’’غالبا‘‘ وَفا کا تھا

حوصلہ مجھ میں بھی بلا کا تھا
​​
راستہ ''غالبا'' وَفا کا تھا
​​

جل بجھیں تتلیاں محبت کی!۔
دَشت بپھرا ہُوا اَنا کا تھا

کل جسے عُمر بھر کو چھوڑ دِیا
پیار بھی اُس سے اِنتہا کا تھا

ہر دُعا دی جدائی پر اُس نے
لیکن اَنداز بد دُعا کا تھا

سانس روکے کھڑا تھا مَلَکُ الموت
سامنا دیپ کو ہَوا کا تھا

بھولنے والا لوٹ تو آیا
وَقت مغرب کا یا عشا کا تھا

رُک گیا میں سزا سے کچھ پہلے
اُس کو اِحساس خُود خطا کا تھا

بُت کدے میں مرا تو پھر کیا ہے؟

ماننے والا تو خدا کا تھا

سَب خزانے منگا لیے رَب نے
فیصلہ عشق کی جزا کا تھا!۔ —

Wednesday, July 17, 2013

Usay Kehna Yeh Dunia Hai!

Usy kehna
Yeh Duniya hai!

Yahan Har Shakhs Matlab ki! 
Haddon Tak sath chalta hai!

Jonhi Mausam Badalta hai!

Muhabbat k Sabhi Daaway!
Sabhi Qasmein!
Sabhi Waaday!

Achanak Toot jaty hain!

Usy kehna!
Yeh Duniya hai!

Yahan Har Morr pe Apni!
Sada Ankhen Khuli rakhna!

Koi Kitna b Acha ho!
Koi Kitna b Sacha ho!

Magar Aitbar Mat karna!

Usy kehna!
Ye Duniya hai!

Kisi se Piyar Mat karna.

Use kehna ye dunya hai..


Tuesday, July 09, 2013

ﺭﻭ ﭘﮍﻭ ﮔﮯ

ﺑﮩﺎﺭ ﺭُﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﮌ ﺭﺍﺳﺘﮯ
ﺗﮑﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺭﻭ ﭘﮍﻭ ﮔﮯ
ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﺴﻦ
ﺳﺠﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺭﻭ ﭘﮍﻭ ﮔﮯ
ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﻭﻋﺪﻭﮞ ﻧﮯ ﯾﺎﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﺗﺒﺎﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ
ﮐﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ
ﺩﻏﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺭﻭ ﭘﮍﻭ ﮔﮯ
ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ
ﺍﺟﺎﮌ ﺩﮮ ﮔﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ
ﮐﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ
ﻣﻼ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺭﻭ ﭘﮍﻭ ﮔﮯ
ﺑﺮﺳﺘﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﮐﺴﯽ ﻭﻟﯽ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺟﺐ
ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺭﻭ ﭘﮍﻭ ﮔﮯ ______

Thursday, July 04, 2013

خواب ٹوٹ جاتے ہیں

خواب ٹوٹ جاتے ہیں
بھیڑ میں‌زمانے کی
ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں

دوست دار لہجوں‌میں
سلوٹیں‌سی پڑتی ہیں
اک زرا سی رنجش سے
شک کی زرد ٹہنی پر
پھول بدگمانی کے
اس طرح سے کھلتے ہیں
زندگی سے پیارے بھی
اجنبی سے لگتے ہیں‌، غیر بن کے ملتے ہیں

عمر بھی کی چاہت کو، آسرا نہیں ملتا
دشت بے یقینی میں‌راستا نہیں ملتا
خامشی کے وقفوں میں
بات ٹوٹ جاتی ہے اور سرا نہیں‌ملتا
معذرت کے لفضوں کو روشنی نہیں ملتی
لذت پزیرائ پھر کبھی نہیں ملتی

پھول رنگ وعدوں کی
منزلیں سکڑتی ہیں‌
راہ مرنے لگتی ہے
بے رخی کے گارے سے، بے دلی کی مٹی سے
فاصلے کی اینٹوں سے، اینٹ جڑنے لگتی ہے
خاک اڑنے لگتی ہے

خواب ٹوٹ جاتے ہیں
واہموں کے سائے، عمر بھی کی محنت کو
پل میں ٹوٹ جاتے ہیں
اک زرا سی رنجش سے
ساتھ چھوٹ جاتے ہیں

بھیڑ‌میں‌ زمانے کی
ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں
خواب ٹوٹ‌ جاتے ہیں

~امجد اسلام امجد~

Sunday, June 30, 2013

Ishq Barhaq...

عشق برحق ، وفا حقیقت ہے
تم فسانے تلاش کرتے ہو
یہ قفس ہے ، چمن نہیں یارو!
آشیانے تلاش کرتے ہو
مست آنکھوں سے کیوں نہیں پیتے
بادہ خانے تلاش کرتے ہو
صاف کہہ دو اگر نہیں ملنا
کیوں بہانے تلاش کرتے ہو

Sunday, June 16, 2013

Manzilen...

ساتھ چلنے والے جب
ساتھ چھوڑ جاتے ہیں
وقت تھم نہیں جاتا
کوئی مر نہیں جاتا
کوئی مر بھی جائے تو
زندگی نہیں رکتی
راستوں کو چلنا ہے
راستے تو چلتے ہیں
یار دوست ملتے ہیں
زخم ایسے سلتے ہیں
گرد گرد لمحوں میں
عمر کٹ ہی جاتی ہے
کچھ مسافروں کو بس
منزلیں نہیں ملتیں

Subconscious Mind!

What if I told you that there was a part of your mind that is always working, even when you are asleep? This part of your mind is known as...