Wednesday, November 27, 2013

Kuj gal vich ghaman da toq v si

Kuj shoq si yaar faqeeri da,
Kuj ishq ne dar dar rol dita,
Kuj sajna kasar na chori si,
Kuj zeher raqeeban ghol dita,
Kuj hijr firaq da rang chareya,
Kuj dard mahi anmol dita ,
Kuj sarr gai qismat v meri,
Kuj peyar vich yaaran rol dita
Kuj onj v rahwan okhiyan san 
Kuj gal vich ghaman da toq v si 
Kuj sheher de log v zlam san,
Kuj sanu maran da shoq v si...!!!



Tuesday, November 19, 2013

wo ek lamha....

آنے والی کل کا دُکھ : پروین شاکر

مِری نظر میں اُبھر رہا ہے
وہ ایک لمحہ
کہ جب کسی کی حسین زُلفوں کی نرم چھاؤں میں آنکھ مُوندے
گئے دنوں کا خیال کر کے
تم ایک لمحے کو کھو سے جاؤ گے اور شاید
نہ چاہ کر بھی اُداس ہو گے
تو کوئی شیریں نوا یہ پُوچھے گی
''میری جاں ! تم کو کیا ہُوا ہے؟
یہ کس تصور میں کھو گئے ہو؟
تمھارے ہونٹوں پہ صبح کی اوّلیں کرن کی طرح سے اُبھرے گی مُسکراہٹ
تم اُس کے رُخسار تھپتھپا کے
کہو گے اُس سے
میں ایک لڑکی کو سوچتا تھا
عجیب لڑکی تھی۔۔۔کِتنی پاگل!''
تُمھاری ساتھی کی خُوب صورت جبیں پہ کوئی شکن بنے گی
تو تم بڑے پیار سے ہنسو گے
کہو گے اُس سے
''ارے وہ لڑکی
وہ میرے جذبات کی حماقت
وہ اس قدر بے وقوف لڑکی
مرے لیے کب کی مر چکی ہے!
پھر اپنی ساتھی کی نرم زُلفوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے تم
کہو گے اُس سے
چلو، نئے آنے والی کل میں
ہم اپنے ماضی کو دفن کریں


Monday, November 04, 2013

One of my favourite.

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
آج پھر آپ کی کمی سی ہے

دفن کر دو ہمیں کہ سانس آئے
نبض کچھ دیر سے تھمی سی ہے

کون پتھرا گیا ہے آنکھوں میں
برف پلکوں پہ کیوں جمی سی ہے

وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر
اس کی عادت بھی آدمی سی ہے

آؤ راستے الگ کر لیں
یہ ضرورت بھی باہمی سی ہے — 
--
Waqt rehta nahi kahin tik kr
Es ki adat bhi admi si hae

اگر تم پاس ہوتے تو

اگر تم پاس ہوتے تو
کرم کی انتہا کرتے
تمہیں پلکوں پہ رکھتے ہم
تمہیں دل میں بسا لیتے
اگر تم روٹھ جاتے تو
تمہیں کتنا مناتے ہم
تمہاری غلطیوں کو بھی
ہنسی میں ہم اڑا دیتے
اگر اپنی خطا ہوتی
تو خود کو ہی سزا دیتے
مگر یہ سب جبھی ہوتا
اگر تم پاس ہوتے تو

Tuesday, October 01, 2013

Darwaza Khula Rakhna!

Dil dard ki shiddat se khoon-gashta-o-see paara,
Is sheher mein phirta hai ek wehshee-o-awara,
Shayar hai ke aashiq hai, jogi hai ke banjara,
Darwaza khula rakhna,

Seene se ghata uthe, aankhon se jhari barse,
Phaagan ke nahi badal, jo chaar ghadi barse,
Barkha hai ye bhaado ki, barse to badi barse,
Darwaza khula rakhna,

Aankhon mein ek alam, aankhon mein to duniya hai,
Honthon pe magar mohrein, munh se nahi kehta hai,
Kis chiz ko kho baitha hai, kya dhundne nikla hai,
Darwaza khula rakhna,

Haan thaam mohabbat ki gar thaam sake dori,
Sajan hai, tera sajana, ab tujhse to kya chori,
Yeh jis ki manaadi hai basti mein teri gori,
Darwaza khula rakhna,

Shikwon ko utha rakhna, aankhon ko bichha rakhna,
Ek shama dareeche ke chaukhat pe jala rakhna,
Mayoos na phir jaaye, haan paas-e-wafa rakhna,
Darwaza khula rakhna darwaza khula rakhna.

by

Ibn-e-Insha. 

Wednesday, September 25, 2013

رُکو تو تم کو بتائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

رُکو تو تم کو بتائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں
کلی اَکیلے اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کہا طبیب نے ، گر رَنگ گورا رَکھنا ہے
تو چاندنی سے بچائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ بادلوں پہ کمر ''سیدھی'' رَکھنے کو سوئیں
کرن کا تکیہ بنائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ نیند کے لیے شبنم کی قرص بھی صاحب
کلی سے پوچھ کے کھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بدن کو دیکھ لیں بادل تو غسل ہو جائے
دَھنک سے خشک کرائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

سیاہی شب کی ہے چشمِ غزال کو سُرمہ
حیا کا غازہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ دو قدم چلیں پانی پہ ، دیکھ کر چھالے
گھٹائیں گود اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کلی جو چٹکے تو نازُک ترین ہاتھوں سے
وُہ دونوں کان چھپائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

سریلی فاختہ کُوکے جو تین مُلک پرے
شکایت اُس کی لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

پسینہ آئے تو دو تتلیاں قریب آ کر
پروں کو سُر میں ہلائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

ہَوائی بوسہ دِیا پھول نے ، بنا ڈِمپل
اُجالے ، جسم دَبائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ گھپ اَندھیرے میں خیرہ نگاہ بیٹھے ہیں
اَب اور ہم کیا بجھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ گنگنائیں تو ہونٹوں پہ نیل پڑ جائیں
سخن پہ پہرے بٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ زیورات کی تصویر ساتھ رَکھتے ہیں
یا گھر بلا کے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کبوتروں سے کراتے تھے بادشاہ جو کام
وُہ تتلیوں سے کرائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ پانچ خط لکھیں تو ''شکریہ'' کا لفظ بنے
ذِرا حساب لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

گواہی دینے وُہ جاتے تو ہیں پر اُن کی جگہ
قسم بھی لوگ اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بس اِس دلیل پہ کرتے نہیں وُہ سالگرہ
کہ شمع کیسے بجھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ سانس لیتے ہیں تو اُس سے سانس چڑھتا ہے
سو رَقص کیسے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شراب پینا کجا ، نام جام کا سن لیں
تو جھوم جھوم سے جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

نزاکت ایسی کہ جگنو سے ہاتھ جل جائے
جلے پہ خوشبو لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

گھروندے ریت سے ساحل پہ سب بناتے ہیں
وُہ بادلوں پہ بنائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جلا کے شمع وُہ جب غُسلِ آفتاب کریں
سفیدی رُخ پہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شکار کرنے کو جانا ہے ، کہتے جاتے ہیں
پکڑنے تتلی جو جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شکاریوں میں اُنہیں بھی جو دیکھیں زَخمی شیر
تو مر تو شرم سے جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

اُٹھا کے لاتے جو تتلی تو موچ آ جاتی
گھسیٹتے ہُوئے لائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کلی کو سونگھیں تو خوشبو سے پیٹ بھر جائے
مزید سونگھ نہ پائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

غلام چٹکی نہ سننے پہ مرتے مرتے کہیں
خدارا تالی بجائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

نکاح خوان کو بس ''ایک'' بار وَقتِ قُبول
جھکا کے پلکیں دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

ہر ایک کام کو ''مختارِ خاص'' رَکھتے ہیں
سو عشق خود نہ لڑائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

اُتار دیتے ہیں بالائی ، سادہ پانی کی
پھر اُس میں پانی ملائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ دَھڑکنوں کی دَھمک سے لرزنے لگتے ہیں
گلے سے کیسے لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ سیر ، صبح کی کرتے ہیں خواب میں چل کر
وَزن کو سو کے گھٹائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وَزن گھٹانے کا نسخہ بتائیں کانٹوں کو
پھر اُن کو چل کے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

حنا لگائیں تو ہاتھ اُن کے بھاری ہو جائیں
سو پاؤں پر نہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ تِل کے بوجھ سے بے ہوش ہو گئے اِک دِن
سہارا دے کے چلائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کل اَپنے سائے سے وُہ اِلتماس کرتے تھے
یہاں پہ رَش نہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

تھکن سے چُور وُہ ہو جاتے ہیں خدارا اُنہیں
خیال میں بھی نہ لائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

پری نے ہاتھ سے اَنگڑائی روک دی اُن کی
کہ آپ ٹوٹ نہ جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

غزل وُہ پڑھتے ہی یہ کہہ کے قیس رُوٹھ گئے
کہ نازُکی تو بتائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں
شہزاد قیس کی کتاب "لیلٰی" سے انتخاب

Monday, August 05, 2013

True Definition of Love!

محبت کیا ہے دل کا درد سے مامور ہو جانا ....
متاع جان کسی کو سوںپ کر مجبوو ہو جانا..... 

Monday, July 29, 2013

Dukh hi aisa tha keh roya tera Mohsin warna

Hum jo pohonchay sar-e-maqtal to ye manzar daikha
Sab say uncha tha jo sar, nok-e-sina per daikha

Hum say mat pooch keh kab chaand ubharta hai yahan
Hum nay suraj bhi teray sheher maian aa ker daikha

Pyaas yaaron ko ab us morrh pay lay aai hai
Rait chamki to yeh samjhay keh samandar daikha

Aisay liptay hain dar-o-baam say ab kay jaisay
Hadson nay bari muddat main mera ghar daikha

Zindagi bhar na hua khatm qayamat ka azaab
Hum nay her saans main barpa naya mehshar daikha

Itna bay-hiss keh pighalta hi na tha baton say
Aadmi tha keh tarasha hua patthar daikha

Dukh hi aisa tha keh roya tera Mohsin warna
Gham chhupa ker usay hanstay huay aksar daikha
 

- Mohsin Naqvi

Sunday, July 28, 2013

​ راستہ ’’غالبا‘‘ وَفا کا تھا

حوصلہ مجھ میں بھی بلا کا تھا
​​
راستہ ''غالبا'' وَفا کا تھا
​​

جل بجھیں تتلیاں محبت کی!۔
دَشت بپھرا ہُوا اَنا کا تھا

کل جسے عُمر بھر کو چھوڑ دِیا
پیار بھی اُس سے اِنتہا کا تھا

ہر دُعا دی جدائی پر اُس نے
لیکن اَنداز بد دُعا کا تھا

سانس روکے کھڑا تھا مَلَکُ الموت
سامنا دیپ کو ہَوا کا تھا

بھولنے والا لوٹ تو آیا
وَقت مغرب کا یا عشا کا تھا

رُک گیا میں سزا سے کچھ پہلے
اُس کو اِحساس خُود خطا کا تھا

بُت کدے میں مرا تو پھر کیا ہے؟

ماننے والا تو خدا کا تھا

سَب خزانے منگا لیے رَب نے
فیصلہ عشق کی جزا کا تھا!۔ —

Subconscious Mind!

What if I told you that there was a part of your mind that is always working, even when you are asleep? This part of your mind is known as...