Thursday, September 20, 2018

محبوب ہو میرے قدموں میں

زرا دیکھ کے چال ستاروں کی
کوئی، زائچہ کھینچ قلندر سا
کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ
جو کر دے بخت،، سکندر سا

کوئی چلہ ایسا کاٹ کے پھر
کوئی اس کی کاٹ نہ کر پائے
کوئی ایسا دے تعویذ مجھے
وہ مجھ پر عاشق ہو جائے


کوئی فال نکال،،،، کرشمہ گر
مری راہ میں پھول گلاب آئیں
کوئی پانی، پھونک کے دے ایسا
وہ پیئے تو میرے خواب آئیں

کوئی قابو کر،،،، بے قابو جن
کوئی سانپ نکال،،، پٹاری سے
کوئی دھاگہ کھینچ، پراندے کا
کوئی منکا، اچھا دھاری سے

کوئی ایسا بول،،، سکھا دے نا
وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں
کوئی ایسا عمل،،، کرا مجھ سے
وہ جانے،،، جان نثار ہوں میں

کوئی ڈھونڈ کے وہ،،، کستوری لا
اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں
جو مرضی،،، میرے یار کی ہے
اسے لگے،،،، میں بالکل ویسا ہوں

کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ
جو اشک بہا دے سجدوں میں
اور جیسے تیرا،،، دعوی ہے
محبوب ہو میرے قدموں میں

پر عامل رک،،، اک بات کہوں
یہ قدموں والی، بات ہے کیا؟
محبوب تو ہے،،،، سر آنکھوں پر
مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا؟

اور عامل سن،،، یہ کام بدل
یک کام،،،، بہت نقصان کا ہے
سب دھاگے اسکے ہاتھ میں ہیں
جو مالک،،،، کل جہان کا ہے۔۔۔

اس سے پہلے کہ شام ہو جائے ......!!

اس سے پہلے کہ دشت امکان کو
وصل جاناں کی آرزو نہ رہے !!

اس سے پہلے کہ بار غم سے کہیں
تجھ کو پانے کی جستجو نہ رہے ......!

اس سے پہلے کہ لوح قسمت پر
باب الفت تمام ہو جائے .!!

لوٹ آؤ.... کہ منتظر ہے نگاہ
اس سے پہلے کہ شام ہو جائے ......!!

Perception makes the difference:

Perception makes the difference: 
Interviewer: How long will you have to work to buy BMW?
Doctor: I think I can buy one in 6-8 months of my practice.
MBA: I need about 11-12 months of hard work.
Engineer: At least 2-3 years of very hard work.
Mr Ratan Tata : I think... about 5 years.
Interviewer: Why so long, Mr Tata?
Mr Ratan Tata: Well, it's not easy, BMW is a big company!

Wednesday, September 19, 2018

اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ ،تو میں تمھارا

اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ ،تو میں تمھارا
یا اس پہ مبنی کوئی تاثر کوئی اشارہ ،تومیں تمھارا

غرور پرور ، انا کا مالک ،کچھ اس طرح کے ہیں نام تیرے
مگر قسم سے جو تم نے اک بھی دفعہ پکارا تو میں تمہارا

تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو ،میں جیسے چاہوں لگاؤں بازی
اگر میں جیتا تو تم ہو میرے ، اگر میں ہارا ،تو میں تمہارا

تمھارا عاشق تمھارا مخلص ، تمھارا ساتھی تمھارا اپنا
رہا نہ ان میں سے کوئی دنیا میں جب تمھارا تو میں تمہارا

تمھارا ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پہ چھوڑتا ہوں
اگر مقدر کا ٹوٹا کوئی کبھی ستارہ تو میں تمہارا

یہ کس پہ تعویز کر رہے ہو یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے
تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ، تو میں تمہارا

عامر امیر

ہم جب مدرسے سے چھٹیوں پر گھر آئے

ہم جب مدرسے سے چھٹیوں پر گھر آئے تو والد محترم نے از راہ مذاق کہا کہ جاؤ صاف ستھرا کرتا پجاما پہن کر کسی بوڑھی عورت کا سامان اپنے سر پر لیکر اسکے گھر پہنچاؤ! ایک بار کہنے لگے جاؤ بہترین کپڑے پہن کر شہر کے پچاس لوگوں کو سلام کرکے آؤ! 

میں حیرت زدہ، پوچھا بھلا کیوں! 

کہنے لگے مولوی بن رہے ہو اور تکبر اور علم کا غرور تمہیں عام انسانوں سے دور کردیگا! تم خود کو ممتاز سمجھنے لگوگے اور 
دوسروں سے خواہش رکھو گے کہ تمہیں خصوصی برتاؤ دیا جائے
ہر تقریر اور ہر خطبے کے بعد جب تمہیں داد تحسین ملے گی تو تمہارا نفس موٹا ہو جائیگا اور مزید تعریفی کلمات کی بھوک بڑھتی جائے گی، تم اپنی تنقید اور اپنی کمزوریاں سننے کے لیے اپنے کان بند کر لوگے! 

! بطور مولوی تم دوسروں سے سلام کی امید کرو گے خود سلام کی پہل کرنے میں تنگدلی کروگے! تم صرف اپنے بڑے اور امیروں کے سامنے مسکراؤ گے اور غریبوں اور اپنے سے کم تر افراد کے سامنے تمہارا چہرہ سخت ہوگا!  

شیروانی پہن کر اگر تم کسی غریب کا بوجھ اپنے سر پر رکھ کر محلے کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے اپنے دل میں شرمندگی محسوس کرنا بند نہ کر دو تب تک یہ مشق جب کب کرتے رہو! 

یہ مشق تو کبھی نہیں کرائی گئی لیکن آج تک جب جب کرتا پجاما، شیروانی یا کوٹ پینٹ پہننے کا موقعہ آتا ہے یہ باتیں کانوں میں سنائی دینے لگتی ہیں!

رہیں گے چپ تو ہمیں ہار ڈالے جائیں گے

رہیں گے چپ تو ہمیں ہار ڈالے  جائیں گے
زبان   کھولی   اگر  مار   ڈالے جائیں  گے

ڈرامہ ختم نہ ہو  گا یہ زندگانی  کا
اٹھےجو ہم،  نئے کردار  ڈالے جائیں گے

ہمارے  نام  ہی نکلے  گی  فال  وحشت  کی
سو ہم ہی دشت میں ہر بار ڈالے جائیں گے

جہانِ کہنہ

جہانِ کہنہ
کے کند خنجر
سے کٹنے والے
غریب لوگو
تم اپنی
ہڈیوں کا
عرق دے کر
نظامِ زر کو
سنوارتے ہو
لہو پسینے
سے عہدِ حاضر
کا زرد چہرہ نکھارتے ہو
سِتم ہے پھر بھی
ضعیف و مردار زندگی تم
گزارتے ہو
یہ اہلِ دانش
جو کہہ رہے ہیں
کہ ہے مقدر یہی تمہارا
نفع تو لونڈی ہے
کچھ گھروں کی
تمہارے حصے میں بس خسارا
اِنہیں بتا دو کہ انقلابِ عظیم
ابھرا تھا اس زمیں پر
وہی ستارادمک رہا ہے
ہماری تاریخ کی جبیں پر
کہ چشمِ افلاک
نے بغاوت کا
ایک ایسا بھی طور دیکھا
ضعیف و مردار خستہ ڈھانچوں نے
حکمرانی کا دور دیکھا
وہ انقلابِ عظیم پھر سے پکارتا
ہے مزاج بدلو۔۔
کہ کل بھی بدلا تھا تم نے مل کر
اُسی طرح سے یہ آج بدلو۔۔
غلام رہنے کی ریت بدلو
اداسیوں کا رواج بدلو
یہ وحشتوں کا، یہ نفرتوں کا
یہ ظلمتوں کا سماج بدلو۔۔۔

کیسے بتاؤں میں تمہیں

کیسے بتاؤں میں تمہیں 
میرے  لئے تم کون ہو؟
کیسے بتاؤں میں تمہیں
تم دھڑکنوں کا گیت ہو
جیون کا تم سنگیت ہو
تم زندگی
تم بندگی
تم روشنی
تم تازگی
تم ہر خوشی
تم پیار ہو
تم پریت ہو من ِمیت ہو
آنکھوں میں تم
یادوں میں تم
سانسوں میں تم
آہوں میں تم
نیندوں میں تم
خوابوں میں تم
تم ہو میری ہر بات میں
تم ہو میرے دن رات میں
تم صبح میں ، تم شام میں
تم سوچ میں ، تم کام میں
میرے لئے پانا بھی تم
میرے لئے کھونا بھی تم
میرے لئے ہنسنا بھی تم
میرے لئے رونا بھی تم
اور جاگنا سونا بھی تم
جاؤں کہیں
دیکھوں کہیں
تم ہو وہاں
تم ہو وہی
کیسے بتاؤں میں تمہیں؟
تم بن تو میں کچھ بھی نہیں
کیسے بتاؤں میں تمہیں؟
میرے لئے تم کون ہو؟
یہ جو تمھارا روپ ہے
یہ زندگی کی دھوپ ہے
چندن سے ترشا ہے بدن
بہتی ہے جسم ایک اگن
یہ شوخیاں
یہ مستیاں
تم کو ہواؤں سے ملی
زُلفیں گھٹاؤں سے ملیں
ہونٹوں میں کلیاں کھل گئیں
آنکھوں کو جھیلیں مل گئیں
چہرے میں سمٹی چاندنی
آواز میں ہے راگنی
شیشے کے جیسا انگ ہے
پھولوں کے جیسا رنگ ہے
ندیوں کے جیسے چال ہے
کیا حسن ہے ،کیا حال ہے
یہ جسم کی رنگینیاں
جیسے ہزاروں تتلیاں
باہوں کی یہ گولائیاں
آنچل میں یہ پرچھائیاں
یہ نگریاں ہیں خواب کی
کیسے بتاؤں میں تمہیں
حالت دلِ بیتاب کی
کیسے بتاؤں میں تمہیں میرے لئے تم کون ہو؟
کیسے بتاؤں میں تمہیں
میرے لئے تم دھرم ہو
میرے لئے ایمان ہو
تم ہی عبادت ہو میری
تم ہی تو چاہت ہو میری
تم ہی میرا ارمان ہو
تکتا ہو ہر پل جسے
تم ہی تو وہ تصویر ہو
تم ہی میری تقدیر ہو
تم ہی ستارہ ہو میرا
تم ہی نظارہ ہو میرا
یوں دھیان میں میرے ہو تم
جیسے مجھے گھیرے ہو تم
مشرق میں تم ، مغرب میں تم
شمال میں تم ، جنوب میں تم
سارے میرے جیون میں تم
ہر پل میں تم ، ہر چیز میں تم
میرے لئے رستہ بھی تم
میرے لئے منزل بھی تم
میرے لئے ساگر بھی تم
میرے لئے ساحل بھی تم
میں دیکھتا بس تم کو ہوں
میں سوچتا بس تم کو ہوں
میں جانتا بس تم کو ہوں
میں مانتا بس تم کو ہوں
تم ہی میری پہچان ہو
کیسے بتاؤں میں تمہیں میرے لئے تم کون ہو

جاوید اختر

ہتھیلیوں کی دُعا پھول لے کے آئی ہو


ہتھیلیوں کی دُعا پھول لے کے آئی ہو
کبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حِنائی ہو!
کوئی تو ہو جو مرے تن کو روشنی بھیجے
کِسی کا پیار ہَوا میرے نام لائی ہو!
گلابی پاؤں مرے چمپئی بنانے کو
کِسی نے صحن میں مہندی کی باڑھ اُگائی ہو
کبھی تو مرے کمرے میں ایسا منظر بھی
بہار دیکھ کے کھڑکی سے ، مُسکرائی ہو
وہ سوتے جاگتے رہنے کا موسموں فسوں
کہ نیند میں ہوں مگر نیند بھی نہ آئی ہو

Tuesday, September 18, 2018

ہم سے جو کُچھ کہنا ہے وہ بعد میں کہہ



ہم سے جو کُچھ کہنا ہے وہ بعد میں کہہ
اچھی ندیا! آج ذرا آہستہ بہہ
ہَوا! مرے جُوڑے میں پھُول سجاتی جا
دیکھ رہی ہوں اپنے من موہن کی راہ
اُس کی خفگی جاڑے کی نرماتی دھُوپ
پارو سکھی! اس حّدت کو ہنس کھیل کے سہہ
آج تو سچ مچ کے شہزادے آئیں گے
نندیا پیاری! آج نہ کُچھ پریوں کی کہہ
دوپہروں میں جب گہرا سناٹا ہو
شاخوں شاخوں موجِ ہَوا کی صُورت بہہ


محبوب ہو میرے قدموں میں

زرا دیکھ کے چال ستاروں کی کوئی، زائچہ کھینچ قلندر سا کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ جو کر دے بخت،، سکندر سا کوئی چلہ ایسا کاٹ کے پھر کوئی اس کی کاٹ...